ٹرمپ ہماری راہ پر!
(مفتی منیب الرحمٰن)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناقابلِ پیش گوئی تو ہمیشہ سے ہے‘ اس بار اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ عواقب ونتائج کی پروا کیے بغیر اپنے طے شدہ منشور پر عمل پیرا ہوگا۔ وہ انتہائی تیز رفتاری سے انتظامی حکمنامے (Executive Orders) جاری کر رہا ہے‘ وہ ہوا کے دوش پر سوار ہے‘ زمینی مخلوق کی اُسے چنداں پروا نہیں ہے۔ وہ بعض ممالک کی طرف سے امریکہ آنے والی درآمدات پر درآمدی محصولات یا کسٹم ڈیوٹی عائد کر رہا ہے‘ بظاہر اس درآمدی ٹیکس کا بار امریکی صارفین پر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں بے چینی پیدا ہو گی اور افراطِ زر میں ممکنہ طور پر اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ردِعمل میں متاثرہ ممالک امریکہ سے درآمدات پر جو کسٹم ڈیوٹی عائد کریں گے‘ اس کا اثر ان کے صارفین پر پڑے گا۔ درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کا ایک مقصد درآمدات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘ لیکن اگر ملک کے اندر ان اشیا کی صنعتیں موجود نہ ہوں تو خواستہ ونخواستہ لوگوں کو وہ اشیا خریدنا پڑیں گی۔
ٹرمپ سمیت سارے امریکی صدور کی خواہش رہی ہے کہ اشیائے صرف کی صنعتوں کو ایک بار پھر امریکہ واپس لایا جائے‘ لیکن امریکی قوانین خاص طور پر لیبر قوانین اور فی گھنٹہ کم ازکم اجرت کے قوانین اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں‘ اس کے نتیجے میں امریکہ میں پیداواری لاگت عالمی مسابقت کے قابل نہیں رہتی۔ صرف وہ امریکی مصنوعات عالمی منڈی میں جگہ پاتی ہیں‘ جن پر امریکہ کی اجارہ داری ہے‘ جیسے جدید ترین جنگی ساز وسامان‘ جنگی اور شہری ہوا بازی کے طیارے‘ آئی ٹی اور ہائی ٹیک کے شعبے وغیرہ۔ اگرچہ اب چین ان شعبوں میں بھی عالمی مسابقت کیلئے کوشاں ہے‘ مثلاً: امریکہ کی ChatGPT کے مقابلے میں چائنا کی DeepSeek نے خود امریکیوں کو حیران کر دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس دور کی انقلابی ایجاد ہے‘ مگر ابھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہے۔
اسی طرح ٹرمپ نے ایک انتظامی حکمنامے کے ذریعے محکمۂ تعلیم کو ختم کر کے اس کے تقریباً سوا چار ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔ تعلیمی نصاب ہمیشہ وفاق کے تحت رہا ہے تاکہ نصابی تعلیم کے ذریعے نئی نسل میں امریکی تفاخر‘ وحدتِ فکر اور یکساں ذہنی وفکری ترجیحات کی حامل ایک قوم وجود میں آئے۔ مگر جب نصاب وفاق سے نکل کر ریاستوں کو منتقل ہوگا تو آنے والے دور میں اُن کیلئے یکساں نصاب قائم رکھنا مشکل ہو گا۔ ہر ریاست کی اپنی اپنی ترجیحات ہوں گی‘ اپنی اپنی مثالی شخصیات یعنی ہیرو ہوں گے‘ پھر آگے چل کر ہماری صوبائی عصبیتوں کی طرح اُن کی ریاستی عصبتیں بھی وجود میں آئیں گی۔ اسی طرح ہمارے ہاں محکمۂ تعلیم صوبائی عملداری میں ہے‘ تمام صوبوں کی مجالسِ نصاب الگ الگ ہیں اور ہر صوبے کا اپنا ہائر ایجوکیشن کمیشن ہے‘ لہٰذا نصاب میں سو فیصد یکسانیت عملاً ممکن نہیں ہے۔ صوبوں کی مثالی شخصیات بھی اپنی اپنی ہیں۔ ایک گلدستے میں تو رنگ برنگے پھول سجتے ہیں‘ لیکن جب یہ الگ الگ ہو جائیں تو پھر تنوّع سے آگے بڑھ کر متضاد صورتیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔
اب تک کے تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قوم سمیت کسی کی پروا نہیں ہے‘ وہ سب سے بے نیاز ہو کر اپنی ذاتی ترجیحات پر عمل کر رہا ہے۔ دوسری اقوام کی توہین سے وہ لطف اٹھاتا ہے‘ دوسروں کو اپنے مقابلے میں حقیر جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ کرگزرنے کے قابل ہے‘ لیکن یہ صرف اللہ جلّ شانہٗ کی شان ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: وہ ”فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد‘‘ (جو چاہے کرگزرنے والا) ہے‘‘ (2) ”اور تمہارا رب جو چاہے اور جسے پسند کرے (اُسے پیدا فرما دیتا ہے)‘ انہیں کوئی اختیار نہیں ہے‘ وہ ہر عیب سے پاک ہے اور اُن سے بلند تر ہے جنہیں وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں‘‘ (القصص: 68)۔ حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جو وہ چاہے‘ وہ (یقینا) ہو کر رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے‘ (ہرگز) نہیں ہو سکتا‘ بیشک اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے‘‘ (ابودائود: 5075)۔
ٹرمپ اگرچہ ووٹ کی طاقت سے آیا ہے‘ اُسے اپنے ملک کے رائے دہندگان میں قبولیتِ عامّہ حاصل ہے‘ لیکن اس کی ذہنی ساخت‘ سوچ اور اپروچ جمہوری نہیں ہے‘ بلکہ آمرانہ (Autocratic) ہے‘ اس کی خواہش ہے: عدالتیں بھی اس کی من پسند پالیسیوں کی توثیق کریں‘ ورنہ انہیں مواخذے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ووٹ کی طاقت سے تو دراصل اجتماعی دانش وجود میں آتی ہے‘ مگر ٹرمپ کا خیال یہ ہے کہ ساری عقل‘ راستی اور صواب (Righteousness) اس کے دماغ میں سما گئی ہے‘ لہٰذا کل دانش اور عقلِ سلیم وصائب پر اُسی کا اجارہ ہے۔ وہ اپنے نیٹو اتحادیوں کی بھی پروا نہیں کرتا‘ بلکہ اس کی خواہش ہے کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے پیچھے چلیں اور اس کی ہر بات اور ہر فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے نیٹو اتحادی اضطراب میں ہیں‘ ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں‘ ٹرمپ کے اقدامات سے نالاں ہیں‘ مگر اس کے خلاف پُرزور احتجاج یا اس کی پالیسیوں کے آگے سدِّ راہ بننے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے‘ کیونکہ نیٹو اتحاد کی تشکیل کے بعد انہوں نے بحیثیتِ مجموعی اپنا دفاع امریکہ کے حوالے کر دیا تھا اور خود فلاحی ریاستوں کا لطف اٹھا رہے تھے۔ مگر اب ان کیلئے مشکل دور آ چکا ہے۔ ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ اپنا دفاعی بجٹ جی ڈی پی یعنی مجموعی قومی پیداوار کے پانچ فیصد تک بڑھائو‘ اپنے دفاع کا بوجھ خود اٹھائو‘ ظاہر ہے کہ اس کیلئے انہیں سوشل سیکٹر کے مختلف شعبوں میں کٹوتی کرنا پڑے گی اور نتیجتاً ان کے عوام میں اضطراب پیدا ہوگا۔ اگر حقیقت بین نظر سے دیکھا جائے تو یوکرین کا بحران نیٹو کا اپنا پیدا کردہ ہے‘ روس کا مطالبہ تھا: سوویت یونین اور وارسا پیکٹ کی تحلیل کے بعد نیٹو اتحاد کے قائم رہنے کا جواز نہیں رہتا‘ کیونکہ نیٹو اتحاد سوشلزم اور کمیونزم کو آزاد منڈی‘ سرمایہ دارانہ معیشت اور جمہوریت کیلئے خطرہ سمجھتا تھا‘ کیونکہ انہی اقدار پر ان کی تہذیب قائم تھی۔ اب وہ خطرہ ٹل چکا تھا‘ تو نیٹو کو بھی تحلیل ہو جانا چاہیے تھا یا کم از کم وہ اپنے آپ کو اپنی سابقہ حدود تک برقرار رکھتے۔ لیکن روس کو چڑانے کیلئے نیٹو اتحاد نے توسیع پسندی کی پالیسی جاری رکھی‘ مشرقی یورپ کے آزاد ممالک کو بتدریج نیٹو میں شامل کرتے گئے اور روس کی سرحدوں تک جا پہنچے۔ روس چاہتا تھا کہ اس کے اور نیٹو ممالک کے درمیان یوکرین بفر زون کے طور پر قائم رہے‘ لیکن زیلنسکی کو نیٹو نے شہ دی اور بالآخر اس کا انجام یوکرین جنگ کی صورت میں نمودار ہوا۔
ہمارے حکمرانوں اور ٹرمپ میں فرق یہ ہے کہ ٹرمپ جو چاہتا ہے کرگزرتا ہے‘ اُسے کسی کی پروا نہیں ہے‘ جبکہ ہمارے حکمران ایک عرصے سے انتہائی خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری چاہتے ہیں یا انہیں بند کرنا چاہتے ہیں‘ لیکن ایسا کر نہیں پاتے‘ کیونکہ ہر دور کی اپوزیشن مقابلے میں آ کھڑی ہوتی ہے اور نجکاری کے متاثرین کی حمایت میں نکل آتی ہے تاکہ حکومتِ وقت کو بے بس اور کمزور کر دیا جائے۔ اسی طرح ہماری فوجی حکومتیں بھی اپنے اقتدار کی مضبوطی اور تحفظ سے بڑھ کر کوئی بنیادی انقلابی اقدامات نہیں کر سکیں‘ اداروں کو نفع بخش بنا سکیں اور نہ نجکاری کر سکیں‘ چنانچہ ٹیکس دہندگان کے پیسے ان بے فیض اداروں کو قائم رکھنے پر خرچ ہو رہے ہیں اور ایک پسماندہ قوم کیلئے یہ انتہائی خسارے کا سودا ہے۔ لہٰذا کسی کو نہیں معلوم کہ نیا ورلڈ آرڈر کیسا ہو گا‘ موجودہ اتحاد اپنی اسی ہیئت کو قائم رکھ پائیں گے یا نئے اتحاد وجود میں آئیں گے‘ نیز امریکہ دنیا سے کٹ کر یا بقیہ دنیا کے علی الرغم اقوامِ عالَم پر اپنا تسلّط قائم رکھ پائے گا یا نہیں‘ کیونکہ جسے دنیا کی قیادت کا زعم ہو‘ اُسے بہر صورت اس کی قیمت تو ادا کرنا پڑے گی‘ ورنہ بلاوجہ کون اس کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا پسند کرے گا۔
نوٹ: یہ کالم ہم نے 2 ؍اپریل کو لکھا ہے۔ اب ٹرمپ نے تمام ممالک کے خلاف درآمدی محصولات کا اعلان کر دیا ہے۔ اب اس کے آفٹر شاکس کا انتظار کرنا ہوگا۔