قدرت کے رنگ نرالے ہیں
(خالد مسعود خان)
ملتان میں موسم بالکل ہی تبدیل ہو چکا ہے۔ دن کو اچھی خاصی گرمی ہو جاتی ہے اور رات اچھی بھلی خنک ہوتی ہے۔ دن کو دھوپ کاٹنے پر آ چکی ہے اور عالم یہ ہے کہ سائے میں بیٹھنا بھی خوشگوار نہیں لگتا۔ یہ دن بہار کے ہوتے تھے مگر اور بہت سی چیزوں کی طرح بہار کا روایتی موسم بھی ہم لوگوں کو داغِ مفارقت دے گیا ہے۔ کبھی یہ دن ایسے خوشگوار ہوتے کہ جی خوش ہو جاتا تھا مگر ابھی چیت کے مہینے کی 22تاریخ ہے لیکن موسم کا یہ حال ہے کہ لگتا ہے بیساکھ آ چکا ہے۔
میں نے سردی اور گرمی کے موسم کی آمد اور روانگی کا اپنا ایک پیمانہ مقرر کر رکھا ہے۔ باتھ روم میں پلاسٹک کی بوتل میں سر پر لگانے والا ناریل کا تیل جب جمنا شروع ہوتا ہے‘ میں اعلان کر دیتا ہوں کہ گرمیاں دمِ رخصت پر ہیں اور سردیوں کی آمد آمد ہے۔ جس دن یہ تیل مکمل جم جاتا ہے میں گیزر آن کر لیتا ہوں۔ یہ تیل جب پگھلنا شروع ہو جائے تو سمجھ جاتا ہوں کہ اب گرمی کے سخت دن آ گئے ہیں۔ جس روز ناریل کا تیل بوتل میں مائع کی صورت اختیار کر لیتا ہے میں گیزر بند کرتا ہوں‘ کشمیری چائے کو رخصت دیتا ہوں اور لسی سے ناشتے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ناریل کے تیل کی بوتل سمجھیں کہ موسم کا حال بتانے والا آلہ ہے۔ اس آلے نے گرمی کی آمد کا اعلان تو پندرہ‘ بیس روز پہلے ہی کر دیا تھا مگر مارچ کے اواخر کی گرمی بتاتی ہے کہ موسموں کا پیٹرن اس علاقے میں بدل رہا ہے۔
باہر صحن میں لگی ہوئی گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے لچھوں میں کھلنے والے گلاب کے پھولوں والی بیل اپنے جوبن پر ہے مگر یہ جوبن محض چند روز کا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دس بارہ دن اور پھر یہ پھول آف وائٹ رنگ میں بدل جائیں گے اور سوکھ کر جھڑنا شروع ہو جائیں گے۔ نیچے ساری زمین ان پتیوں سے ایسے بھر جائے گی جیسے کسی نے چھوٹی چھوٹی پتیوں کا قالین سا بچھا دیا ہے۔ پھول جھڑ جائیں گے اور سبز پات پوری بیل کو ڈھانپ لیں گے۔ چڑیوں کے گھونسلے‘ جو گزشتہ مہینے کے آخر تک دکھائی دیتے تھے‘ ابھی سے پتوں میں چھپ گئے ہیں۔ کل فجر کے بعد جب ابھی سورج بھی نہیں نکلا تھا‘ اس بیل کے نیچے کھڑے ہو کر چڑیوں کی چہچہاہٹ سے لطف لے رہا تھا تو اوپر سے نہایت ہی باریک اور کمزور سی چوں چوں کی آوازیں سنائی دیں۔ چڑیوں کی چہکار کے شور میں یہ آوازیں دبی دبی سی تھیں۔ پھر نجانے کیا ہوا ساری چڑیاں ایک دو لمحے کیلئے خاموش ہو گئیں۔ اس خاموشی میں صرف وہی ہلکی ہلکی چوں چوں سنائی دے رہی تھی۔ یہ ایک دو نہیں‘ چھ سات یا شاید اس سے بھی زیادہ آوازیں تھیں۔ یہ چڑیوں کے گھونسلوں میں نئی نسل تھی جو اپنی آمد کا اعلان کر رہی تھی۔ اب اللہ ہی جانے کہ یہ بچے بڑے ہو کر یہاں سے اڑ جائیں گے اور کسی اور درخت یا بیل کو اپنا مسکن بنائیں گے یا اسی بیل میں اپنا گھونسلا بنا کر ڈیرہ ڈالے رکھیں گے۔ اس بیل میں ابھی درجن بھر مزید گھونسلوں کو اپنے دامن میں چھپائے رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ سردیوں میں جب یہ بیل محض شاخوں اور شاخچوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی‘ میں نے دیکھا تو اس میں چھ سات گھونسلے تھے۔ گزشتہ سال ان کی تعداد چار پانچ سے زیادہ نہیں تھی۔صبح جب میں صحن سے اخبار اٹھانے کیلئے باہر جاتا ہوں تو دوچار لمحے اس بیل کے پاس ضرور کھڑا ہوتا ہوں۔ اس کی دو وجوہات ہیں؛ پہلی یہ کہ یہ بیل میری اہلیہ نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی اور بقول چچا غالب ”غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست‘‘ میں اس بیل کے نیچے جو دو تین لمحے گزارتا ہوں وہ دن کے بہترین آغاز کی نوید سناتے ہیں۔ اس بیل کے نیچے کھڑے ہونے کی دوسری وجہ ان درجنوں چڑیوں کی وہ چہچہاہٹ ہے جو کانوں میں ایسی جلترنگ بجاتی ہیں کہ دنیا کا کوئی ساز ان کا مقابلہ تو کجا ان کا پاسنگ بھی نہیں لگتا۔ میں نے ان چڑیوں کی آوازیں اپنے فون میں ریکارڈ کر رکھی ہیں۔ کبھی کبھی محض ان سے دل بہلا لیتا ہوں۔ ایک روز لندن میں اسد کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں تھا کہ ایک آواز سے آنکھ کھل گئی۔ ایسا لگا کہ میرے گھر کی گھنٹی بجی ہے۔ اٹھ کر احساس ہوا کہ میں ملتان میں نہیں‘ لندن کے ہوٹل میں ہوں اور میرے کان بج رہے ہیں۔ ابھی دوبارہ سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ پھر وہی آواز سنائی دی۔ یہ میرے گھر کی گھنٹی سے ملتی جلتی نہیں بلکہ عین ویسی ہی آواز تھی‘ میں نے سمجھا کہ شاید یہ میرا واہمہ ہے کہ مجھے وہی آواز دوبارہ گونجتی ہوئی محسوس ہوئی ہے مگر پھر وہی آواز تیسری بار آئی تو میں نے کھڑکی کھول کر نظریں ادھر ادھر دوڑائیں۔ میں منتظر تھا کہ اب آواز آئے اور میں اس کا ماخذ تلاش کروں۔ پھر آواز آئی تو میں نے اس چڑیا کو تلاش کر لیا۔ یہ ہماری عام گھریلو چڑیوں سے تھوڑی سی بڑی چڑیا تھی جس کے کندھوں پر سرخ رنگ بکھرا ہوا تھا۔ مجھے اس روز احساس ہوا کہ اس گھنٹی کے صناع نے قدرت کی آواز کو اس برقی گھنٹی میں منتقل کیا تھا تو بھلا اس میں یہ غنایت اور موسیقی کیوں نہ ہوتی۔
پرسوں علی الصبح باتھ روم میں تھا تو کھڑکی سے ایک بالکل مختلف قسم کی جلترنگ سی سنائی دی۔ یہ آواز کسی ایسے پرندے کی تھی جو ہماری بیل کا باسی نہ تھا۔ میں نے باہر جا کر اس پرندے کے درشن کرنا چاہے مگر اس شرمیلے پنچھی نے میری موجودگی کا احساس ہوتے ہی چپ سادھ لی تھی۔ میں خاصی دیر کھڑا رہا مگر یہ آواز دوبارہ سنائی نہ دی۔ میں دوبارہ آکر بستر میں لیٹ گیا تو اس چہکار کو دو بارمزید سنا‘ پھر میں سو گیا۔ لان کے تین اطراف میں گملے ہیں اور ان میں پھولوں کے رنگ ایسے سجے ہوئے ہیں کہ آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی ہیں۔ پینزی کے پھولوں کا پیلا اور جامنی رنگ ایسا نکھرا نکھرا دکھائی دیتا ہے کہ قدرت کے کارخانے کے علاوہ اور کوئی رنگ ساز ایسا رنگ بنانے کی حسرت تو کر سکتا ہے‘ بنا نہیں سکتا۔ کاسنی پٹونیا کی چھب علیحدہ ہے اور سرخ و سفید پٹی دار پٹونیا اور قسم کی مسحور کن خوبصورتی کا شاہکار ہے۔ تین چار رنگوں کا فلیکس لگا ہوا ہے۔ میری گولڈ کے تین رنگ ہیں اور تینوں اپنی اپنی جگہ پر نرالے اور بے مثل۔ قارئین! اس نالائق لکھاری کو تو پھولوں کے پورے نام بھی نہیں آتے کجا کہ اُن کی تصویر کشی کر سکے۔ یہ میری اہلیہ کا شوق تھا۔ مجھے تو مالی ایک روز بتاتا ہے کہ پنیری لگانے کا موسم آ گیا ہے۔ میں نرسری جاتا ہوں اور اس کی پھولوں والی کتاب کھول کر انہی پھولوں کی تصویر پر انگلی رکھ دیتا ہوں جو وہ لگاتی تھی۔ ہر طرح اور ہر رنگ کی پنیری کے گملے لا کر مالی کو دے دیتا ہوں۔ اس بار مسلسل سفر کی وجہ سے پنیری تھوڑی تاخیر سے آئی اور میں پھر سفر پر روانہ ہو گیا۔ واپس آیا تو پھول کھلنا شروع ہو گئے تھے۔ بڑی دیر تک میں ان پھولوں کے پاس کھڑا رہا۔ میں نے ایک ایک گملے اور ایک ایک پھول کو دیکھا مگر کچھ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ تیرہ سال پہلے آخری بار اس نے مجھے لان میں پھولوں بھرے گملوں کے پاس کھڑے ہو کر پھولوں کی اقسام کے بارے میں بتانا شروع کیا مگر دوچار پھولوں کے نام بتانے کے بعد کہنے لگی: آپ کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں‘ نہ آپ کو ان کے نام آتے ہیں اور نہ ہی آپ اب غور سے سن رہے ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا: تم ہو نا بتانے والی‘ بھلا تمہارے ہوتے مجھے یہ نام یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ لان میں لگے ان سارے پھولوں کے نام یاد کر لوں۔ پھر میں یہ خیال جھٹک دیتا ہوں۔ بھلا میں یہ نام یاد کرکے کروں گا بھی کیا‘ اب بھلا کس نے لان میں میرا پھولوں بارے امتحان لینا ہے جو میں اس کارِ لاحاصل میں اپنا وقت ضائع کروں۔ مالی پنیری لگا دیتا ہے۔ پھول کھل اٹھتے ہیں اور میں انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ہوں اور کسی کو یاد کرکے اداس ہو جاتا ہوں۔ زندگی دکھ‘ تکلیف‘ غم‘ اداسی‘ خوشی‘ مسرت اور رنگینی کی پیکیج ڈیل کا نام ہے اور ہماری زندگی انہی ملے جلے جذبوں سے معمور ہے۔ زندگی اور قدرت کے رنگ نرالے ہیں۔