رمضان پیکیج کے 20 ارب روپے میں 60 فیصد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ٹیکس دینے سے ہی ملک چلتے ہیں،قرضوں کاحصول خوشی کی بات نہیں۔شہبازشریف

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ رمضان پیکیج کے تحت مستحق افراد تک شفاف طریقے سے ریلیف پہنچانا ہمارا مقصد ہے، رمضان پیکج کے تحت 20 ارب روپے میں سے 60 فیصد رقم تقسیم کی جاچکی ہے، ماضی میں یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے جو امداد تقسیم کی گئی اس میں کرپشن، ناقص اورغیرمعیاری اشیاء کی فراہمی اورعوام کوتکلیف کی شکایات تھیں اس لئے اس نظام کا خاتمہ کردیا گیا۔ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ”آئی ایم ایف نے گزشتہ 18 مہینوں کے دوران میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے حوالے سے پیشرفت، مالی صورتحال کی بہتری اور افراط زر 2015 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آنے اور معیشت میں استحکام پر پاکستان کی تعریف کی ہے آئی ایم ایف نے معیشت میں اصلاحات اور گورننس میں بہتری کے لئے حکومت پاکستان کے اقدامات اور عزم کو بھی سراہا ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔”۔وزیراعظم نے کہاکہ ٹیکس دینے سے ہی ملک چلتے ہیں۔ قرضوں کا حصول خوشی کا مقام نہیں، قرضے ختم کرکے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، پاکستان بہت جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا۔ امن اور ترقی لازم وملزوم ہیں، دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام سے ہی ترقی کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ان کاکہناتھاکہ ایف بی آر میں ڈیجٹائزیشن کے حوالے سے اقدامات تیزی سے جاری ہیں،فیس لیس انٹریکشن پربھی کام ہورہا ہے،ٹریبونلز کےلئے کارپوریٹ لائرز، چارٹرڈ اکاؤٹنٹس کسی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک سسٹم کے تحت منتخب کئے جارہے ہیں۔ چینی کے سیلز ٹیکس کی چوری پر قابو پانے کےلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔محصولات کی وصولی میں گزشتہ سال کی نسبت 26 فیصد اضافہ خوش آئند ہے۔ عدالتوں میں جو کیسز زیرِ التواء ہیں وہ کھربوں روپے کے ہیں، ان پر کام تیزی سے شروع ہو چکا ہے، اس وقت 34 ارب روپے ریکور کیے جا چکے ہیں۔