پاکستان

دہشتگردی بارے ریاستی غلطیوں کا بڑا عمل دخل ہے۔ایران نے بھی افغان مہاجرین کوجگہ دی لیکن جنگ کے لیے بیس کیمپ نہیں بنایا۔پاکستان نے بیس کیمپ بنالیا۔مولانافضل الرحمن

جب لفظ جہاد استعمال ہوگا تو مذہبی لوگ ہی اس طرف جائیں گے، ریاست لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکی کہ روس افغانستان آیا تو جہادتھا اور امریکا آیا تو جہاد نہیں تھا۔سربراہ جے یوآئی

افغانستان نے کہا کہ آپ “عجلت” اور ہم “مہلت” کا تقاضا کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ان چیزوں کے لیے وقت چاہیے

جے یوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ افغانستان نے دعوت دی تو حکومت اور وزارت خارجہ کو اعتماد میں لیا،افغانستان میں ایک ہفتہ گزارا اور تمام معاملات پر بات کی اور نتائج حاصل کیے، ان نتائج کو یہاں آکر رپورٹ کیا اس رپورٹ کو تسلیم کیا گیا خراج تحسین پیش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکیوں کو اڈے دیے اور دوسری طرف افغانستان سے آنے والوں کو یہاں کور دے رہے تھے، ہمارے تیس چالیس ہزار لوگ وہاں گئے اور ان کے ہمراہ بیس سال تک لڑے، اب کیا ان سے بندوقیں لے کر آپ کے حوالے کردیں ظاہر ہے ان کے لیے بھی مشکلات ہیں، کچھ چیزوں پراتفاق رائے حاصل کیا انھوں نے کہا کہ ہمارا اور آپ کا مؤقف ایک ہی ہے، افغانستان نے کہا کہ آپ “عجلت” اور ہم “مہلت” کا تقاضا کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمیں ان چیزوں کے لیے وقت چاہیے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ اتفاق رائے ہوا تھا مجھے علم نہیں کہ ہم نے آج معاملہ کیوں بگاڑ دیا، ہم افغانستان کی جنگ کو نہ روئیں تواچھا ہے، گوادر سے لیکر چترال باجوڑ تک مسئلہ ہے، افغانستان سے متعلق امید رکھتا ہوں کہ اس پر مزید سوچنے کی گنجائش ہے، جنگ نہ افغانستان اور نہ پاکستان کے لیے مفید سمجھتا ہوں، اگر ہم جنگ کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تو قدم روک لینا چاہیے اور جامع حکمت عملی کی طرف جانا چاہیے، حکمرانوں کو دعوت دیتا ہوں تھوڑا سا ان معاملات پر سوچیں تمام جماعتوں کو بلالیں۔ان کا کہنا تھاکہ دہشتگردی کے حوالے سے ریاست کی غلطیوں کا بڑا عمل دخل ہے، افغان جنگ کے بعد مہاجرین ایران کی طرف بھی گئے اور ایران نے افغان مہاجرین کو تو جگہ دی لیکن جنگ کے لیے بیس کیمپ نہیں بنایا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جنگ کے لیے بیس کیمپ بنایا، جب لفظ جہاد استعمال ہوگا تو مذہبی لوگ ہی اس طرف جائیں گے، ریاست لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکی کہ روس افغانستان آیا تو جہاد اور امریکا آیا تو جہاد نہیں، تضاد تب آیا جب پرویز مشرف نے امریکا کو سپورٹ کیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ پاکستان میں اس وقت مسلکی تنازعات اور جنگیں نہیں ہیں، ہمارے علما کرام شہید ہوئے ان کو بھی شہید کہتا رہوں اور قاتلوں کو بھی تو ایسا نہیں ہوسکتا، افغانستان میں افغان علما نے فتویٰ جاری کیا کہ جہاد اپنے انجام کو پہنچ چکا، اب کوئی جنگ کرے گا تو وہ جنگ ہوگی جہاد نہیں۔انہوں نے کہا کہ 25 ہزار علما پشاوراور 10 ہزار علما بلوچستان میں جمع ہوئے، 35 ہزار علما نے قرار داد پاس کی کہ ہم آئین پاکستان کے ساتھ ہیں، تمام مکاتب فکر نے لاہور میں اے پی سی کی اور اتفاق کیا کہ اکابرین کے متفقات کو دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جائے گا اور نظام کے اصلاح کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھاکہ وفاق المدارس عربیہ نے ڈیڑھ سو علما کو بلایا جنھوں نے ملک میں اسلحہ اٹھا کر لڑنے کو غیرشرعی قرار دیا، ہم اپنے ملک کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں، داعش ہو یا کوئی اور تنظیم ان کے ساتھ اتفاق ہوتا تو کیا میں پارلیمنٹ میں بیٹھا ہوتا۔

متعلقہ خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button