کیا پاکستان میں بے روزگاری ہے؟
(خورشید ندیم)
کیا پاکستان میں روزگارکے مواقع ختم ہو گئے؟
میرا مشاہدہ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ یہاں روزگار موجود ہے‘ کام کرنے والا موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر روزگار موجود ہے تو پھر بے روزگاری کیوں ہے؟ میرے خیال میں اس کے اسباب سماجی ہیں۔ ہمیں ان کو سماج میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر ہم سماجی رویوں کی اصلاح کر سکیں تو مجھے یقین ہے کہ بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ میں اس اجمال کی تفصیل بیان کرتا ہوں۔
ہم پہلے تعمیرات کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں تعمیر و مرمت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کاروبار میں کبھی تیزی آتی ہے اور کبھی مندی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ سلسلہ رک جائے۔ صرف اس شعبے کے ساتھ ستر سے زائد کاروبار اور ہنر وابستہ ہیں۔ تعمیرات کے شعبے میں جتنا روزگار ہے‘ اس کی نسبت سے ہمارے پاس ہنر مند موجود نہیں۔ میرا برسوں کا تجربہ ہے کہ گھر میں جب بجلی کا کوئی کام درپیش ہوا یا پلمبر کی ضرورت پڑی تو کئی دن کی کاوش کے بعد کوئی ہنر مند ہاتھ آیا۔ جن ماہرین کو میں جانتا ہوں‘ ان کے پاس فرصت نہیں ہوتی۔ کئی بار فون کرنے اور کئی دن انتظار کے بعد یہ شاہین زیرِ دام آتا ہے۔ جب خوش بختی سے مل جائے تو ایک آدھ گھنٹے کے کام کیلئے اس کی کم ازکم اجرت ہزار پندرہ سو روپے سے کم نہیں ہوتی۔ روزکے دس ہزار روپے کمانا اس کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔
ایک نئے گھر کی تعمیر میں پلمبنگ کا کام لاکھوں میں ہوتا ہے۔ یہی معاملہ بجلی کے کام کا ہے۔ لکڑی کے کام کا معاوضہ بھی لاکھوں میں ہے۔ اس نوعیت کے بے شمار شعبے ہیں اور ہر شعبے کے لیے ہنر مند لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی کی شہرت اچھی ہو تو لوگ اس کی منتیں کرتے اور منہ مانگے دام دیتے ہیں۔ مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ ایسے لوگ کمیاب ہیں۔ یہ وہ روزگار ہے جو کسی واسطے اور سفارش کے بغیر میسر ہے۔ اگر تعمیرات میں صنعتوں کو بھی شامل کر لیا جائے جیسے سیمنٹ اور سریا ہیں تو لاکھوں لوگ ہیں جن کا روزگار ان سے وابستہ ہے۔ یہ محض ایک شعبے‘ تعمیرات کی کہانی ہے‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزگار کی نوعیت کیا ہے۔
اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ محض ایک موٹر سائیکل یا گاڑی کے ساتھ آمد ورفت کی سہولت فراہم کرکے روزانہ ہزاروں روپے کمائے جا رہے ہیں۔ نیا موٹر سائیکل ایک لاکھ روپے تک مل جاتا ہے۔ ایک لاکھ کی سرمایہ کاری سے مہینے میں ہزاروں روپے کمائے جا سکتے ہیں اور لوگ کما رہے ہیں۔ یہ ایسا کاروبار ہے کہ انسان کی آزادی بھی بر قرار رہ سکتی ہے۔ جب دل چاہا کام کیا‘ نہ چاہا تو گھر بیٹھے رہے۔ اگر ہم اس طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی کا جائزہ لیں تو لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ اگر کمی ہے تو وہ ہنر مند لوگوں کی ہے۔ روزگار موجود ہونے کے باوجود بے روزگاری کا راز یہی ہے۔
اب آئیے اس کے اسباب کی طرف۔ پہلا سبب اخلاقی ہے۔ یہ کام نہ کرنے کا مزاج ہے۔ لوگوں کی اکثریت سہل پسند ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بغیر محنت کچھ ہاتھ آ جائے۔ کوئی لمبا ہاتھ مار لیا جائے۔ اسی سے متصل دیانت کا شدید فقدان ہے۔ یہ سنی سنائی باتیں نہیں۔ یہ مشاہدے اور تجربے کا معاملہ ہے۔ یہ پلمبر ہو یا الیکٹریشن‘ ان لوگوں میں وعدہ پورا کرنے کی کوئی روایت موجود نہیں۔ اس تساہل اور بددیانتی کی وجہ سے اوّل تو لوگ کام نہیں کرتے اور اگر کریں تو ایک دن کا کام تین دن میں کرتے ہیں اور وہ بھی غیر معیاری۔
دوسرا سبب نفسیاتی ہے۔ ہمیشہ یہ سننے میں آتا ہے کہ پاکستان میں کیا رکھا ہے‘ یہاں تو کام موجود نہیں ہے۔ اسی کے زیرِ اثر نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ باہر جانے کی خواہش پالتا ہے۔ وہ لاکھوں روپے دے کر ایک پُرخطر اور غیر قانونی راستہ اختیار کرتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر وہ اس رقم کی یہاں سرمایہ کاری کرے تو اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اب تو آن لائن سہولت نے کاروبار کے مواقع وسیع کر دیے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور اس سے معاشی اضطراب جڑا ہوا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ اس کے باوصف میں یہ عرض کروں گا کہ زندگی کو ہر حال میں اور لازماً متحرک رہنا ہے۔ غزہ میں بھی تعلیم‘ علاج اور روز مرہ اشیا کی طلب و رسد کا معاملہ ایک دن کیلئے بھی رکتا نہیں۔ یہ ناگزیر معاشی سرگرمیاں ہیں جو بہر صورت جاری رہتی ہیں اور انہی سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
حکومتوں کی پالیسیاں معاشی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں خرابیاں اپنی جگہ مگر اس کا زیادہ اثر بڑے لوگوں پر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت تعمیرات کے شعبے کا ایک بڑا نام زیرِ عتاب ہے تو اس کے منصوبے بھی کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ وہ اپنا سرمایہ یہاں سے نکال رہا ہے۔ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ یہ دوطرفہ بے تدبیری کا معاملہ ہے۔ اس کو سلجھایا جا سکتا ہے اگر حکمت سے کام لیا جائے۔ یہ مگر اس وقت میرا موضوع نہیں۔ میں اس نکتے پر توجہ مرتکز رکھنا چاہتا ہوں کہ بڑے معاشی منصوبے اگر کھٹائی میں پڑ جائیں تو ان سے عام آدمی بھی متاثر ہوتا ہے مگر معاشی عمل جاری رہتا ہے۔
ایک اور بڑا سبب تعلیم اور روزگار کے معاملے میں ہمارا زاویۂ نظر ہے۔ اکثریت کا خیال یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو ایم اے‘ بی اے کرا دیا جائے اور پھر پکی سرکاری نوکری دلوا دی جائے۔ اب سرکاری نوکریاں محدود ہوتی ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ ہر بی اے پاس نوجوان کو سرکاری نوکری مل سکے۔ سیاسی حکومتیں چونکہ عوام کو خوش کرنا چاہتی ہیں اس لیے وہ سرکاری اداروں میں بغیر ضرورت کے لوگ بھرتی کرتی ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ ادارہ اس بوجھ تلے بیٹھ جاتا ہے۔ کراچی سٹیل مل‘ پی ٹی وی‘ ریڈیو پاکستان سمیت اَن گنت ادارے ہیں جو حکومت پر بوجھ اور معاشی طور پر ناکام ہیں۔
اگر ہم نوجوانوں کو بارہ سال کی تعلیم کے بعد ہنر کی طرف لگائیں تو تین سال کی تربیت سے وہ لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے بارہ سالہ رسمی تعلیم کے بعد ڈاکٹر اور انجینئر بنتے ہیں۔ ایم اے‘ بی اے کا کوئی علمی فائدہ ہے نہ عملی۔ اس تعلیم میں صرف ان لوگوں کو آنا چاہیے جو تحقیق کا ذوق اور حصولِ علم کا شوق رکھتے ہیں۔ یہ ضرور پی ایچ ڈی تک جائیں اور علم کی دنیا میں اپنا حصہ ڈالیں۔ رہا ہنر مند تو وہی بے روزگار رہے گا جو تساہل کی وجہ سے کام نہ کرے۔ جو ہاتھ سے کام کرنا چاہتا ہے اور اس کے پاس ہنر بھی ہے‘ وہ ضرور کامیاب ہوتا ہے۔
اگر ہم ان اسباب کا تدارک کر سکیں تو مجھے یقین ہے کہ بے روزگاری پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ ریاست اگر سماج کو امن اور استحکام فراہم کر سکے تو فطرت اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ معاشی سرگرمی بھی فطرت کا حصہ ہے۔ اس وقت ریاست زیرِ بحث نہیں۔ میں اس منظر نامے کی بات کر رہا ہوں جب ریاست سے لوگوں کو زیادہ امید نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ سماج اگر اپنی قوت کی بنیاد پر بروئے کار آئے اور لوگ درست فیصلے کریں تو بے روزگاری کو بہت کم کیا جا سکتا ہے۔ ریاست اگر درست فیصلے کرے تو خوشحالی کی منزل دو قدم ہے۔