وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اہم اجلاس،دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے صوبائی ایکشن پلان تشکیل دے دیاگیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے صوبائی ایکشن پلان کو حتمی شکل دے دی گئی۔اجلاس کو بتایاگیاکہ ایکشن پلان کے سات بنیادی ستون ہیں ،ان کے تحت انسداد دہشت گردی کے اقدامات،سیاسی و سماجی اقدامات، قانونی اصلاحات،گڈ گورننس،عمومی اقدامات،مانیٹرنگ اور آگہی مہم شامل ہیں۔اجلاس میں کل 84 اہم اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن پر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ صوبائی اور وفاقی اداروں کو ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔اس صوبائی ایکشن پلان کے نمایاں نکات یہ ہیں ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات۔شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائیوں کا تسلسل جاری رہے گا،دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے کے لیے قانونی نظام کو مضبوط کیا جائے گا،عوامی خدمات کی بہتری اور سیکیورٹی معاملات میں عوامی رائے کو شامل کیا جائے گا،،دہشتگردوں اور سہولت کاروں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا،شیڈول فورتھ میں شامل افراد کی کڑی نگرانی ہوگی،ماہانہ بنیادوں پر دہشتگردوں کے سروں کی قیمتوں کے کیسز کا جائزہ لیاجائے گا۔دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائیاں ہوں گی،ہر ضلع میں ماہانہ سیکیورٹی اسسمنٹ، دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر نظررکھی جائے گی۔پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد میں تیزی سے اضافہ، نئی بھرتیاں اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی بنائی جائے گی،جنوبی اور ضم شدہ اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری کو ترجیح دی جائے گی۔