پاکستان کی سمندری حدود میں سعودی عرب اور پاکستان نیوی کی مشترکہ مشقیں شروع

سعودی عرب اور پاکستان نیوی کی مشترکہ مشقیں 12فروری 2025ء سے پاکستان کی سمندری حدود میں شروع ہو گئی ہیں۔یہ مشقیں “نسیم البحر”کے نام سے شروع کی گئی ہیں۔ایک سعودی اخبار سے بات کرتے ہوئے مشقوں کے سعودی کمانڈر میجر جنرل صالح بن عبداللہ العمری نے کہاہے کہ “نسیم البحر 15” مشقوں کا مقصد بحری جنگ (سطح، فضاء، زیر زمین اور بے قاعدہ جنگ) کے میدان میں بحری کارروائیوں کو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشنز، آبی گذرگاہوں کی تلاش اور ان کی حفاظت کے عمل میں حفاظتی آپریشنز کے تجربات کو بہتر بناناہے۔جنرل العمری نے مزید کہا کہ “نسیم البحر” مشقیں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران تیار ہوئی ہیں۔ یہ 1993ء سے ہر دو سال بعد منعقد ہونے والی مشقوں کا تسلسل ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باری باری ان مشقوں کو عملی شکل دینے سے لے کر آپریشنل سطح پر جدید مشقوں کی طرف منتقلی کا سفر طے کیا جاتا ہے۔ مشقوں میں میزائلوں کے استعمال کے تجربات کے ساتھ براہ راست ہلکی فائرنگ اور جدید ترین جنگی نگرانی کے نظام کی مشقیں کی جاتی ہیں۔مشقوں میں شرکت کے لیے رائل سعودی نیول فورسز اور پاکستانی بحریہ کے درمیان مشترکہ دوطرفہ بحری مشقوں کی سرگرمیاں بحیرہ عرب میں شروع ہو رہی ہیں جس میں دونوں بحری افواج کے درمیان مختلف سمندری لڑائی کی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور ہتھیاروں کی جانچ کے ساتھ دو طرفہ عسکری تعاون اور تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ ان مشقوں میں پاکستانی میرینز اور فضائیہ بھی حصہ لیں گی۔