دنیا کا بدلتا منظرنامہ
(عمران یعقوب خان)
افغان باشندوں اور پاکستان میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر دوسرے افراد کے لیے پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن 31 مارچ کو ختم ہو گئی۔ حکومت نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایک سرکاری عہدیدار نے گزشتہ روز واضح کیا کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں Afghan Citizen Card ہولڈرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپنی جائیدادیں غیر قانونی افغان شہریوں کو کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غیر قانونی افغانوں کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن کیے جائیں گے اور ان کا بائیو میٹرک ریکارڈ سرکاری ریکارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ان کے پاکستان میں دوبارہ داخلے کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان 15لاکھ 20ہزار رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا رہا ہے۔ غیر رجسٹرڈ افغان اس کے علاوہ ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ افغان شہریت کے حامل افراد کے ساتھ ساتھ دیگر افراد بھی سرکاری طور پر تسلیم کیے بغیر ملک میں رہ رہے ہیں اور پاکستان کو اس وقت سکیورٹی کے حوالے سے جن خطرات کا سامنا ہے ان میں سے کافی کا تعلق پاکستان میں قیام پذیر غیر قانونی باشندوں سے ہو سکتا ہے۔
مشکل یہ آن پڑی ہے کہ افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین مولوی عبدالکبیر نے پاکستان اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مجوزہ ملک بدری کو روکیں اور افغانوں کو رضا کارانہ طور پر وطن واپسی کی اجازت دیں۔ انہوں نے پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی سلوک کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کی بات بالکل درست ہے‘ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران اگر گزشتہ 46 برسوں سے لاکھوں افغان باشندوں کی مہمان نوازی کرتے رہے ہیں تو یہ انسانی ہمدردی اور اس سے زیادہ اسلامی بھائی چارہ کے تحت ہی کیا گیا ہے۔ یہ بھائی چارہ ابھی ختم نہیں ہوا پوری طرح قائم ہے‘ پاکستان اور ایران اب بھی افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس مہمان نوازی اور بھائی چارے کے جواب میں افغان پناہ گزینوں اور افغانستان میں قائم رہنے والی حکومتوں کی جانب سے ایران اور پاکستان کے لیے کتنی انسانی ہمدردی اور اسلامی بھائی چارے کا مظاہرہ کیا گیا؟ پاکستان کو افغانستان سے یہ شکایت ہے کہ وہاں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد موجود ہیں اور وہ سرحد پار کرکے پاکستانی علاقوں پر حملے کرتے ہیں جس سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے‘ ملک کی جو ساکھ خراب ہوتی ہے وہ اس پر مستزاد۔ پھر اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ افغان مہاجرین کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا‘ ہیروئن اور دوسری منشیات آئیں اور ان دونوں قبیح کاروباروں سے حاصل ہونے والی آمدنیوں سے افغان مہاجرین نے یہاں اپنے کاروبار شروع کیے‘ اور جائیدادیں خریدیں۔ اس سارے عمل کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی اور اس کے پاکستان کی معاشرت پر بھی نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے۔ پھر گمان غالب یہ ہے کہ افغانستان کی جانب سے جو دہشت گرد پاکستان کے اندرونی علاقوں میں حملہ آور ہوتے ہیں‘ ان کو کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کے اندر سہولت کاری میسر ہوتی ہے۔ یہ سہولت کاری کہاں سے ہوتی ہے؟ جب اس بارے میں سوچا جاتا ہے تو ذہن فوری طور پر افغان مہاجرین ہی کی جانب جاتا ہے۔ ایران کو بھی افغانستان سے کئی شکایات ہیں۔ تو سوال وہی ہے کہ پاکستان اور ایران کی جانب سے افغان مہاجرین کی میزبانی کے جواب میں ان دونوں ملکوں کے ساتھ کون سی بھلائی کی گئی؟
اب تھوڑا سا مشرقِ وسطیٰ کی طرف نظر ڈالتے ہیں‘ جہاں امریکی افواج کی جانب سے یمن کے حوثیوں پر جدید ترین اسلحے سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ دو روز قبل بھی امریکہ نے یمن کے کاماران جزیرے پر بمباری کی۔ حوثی اکثریتی تنظیم انصار الاسلام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے حدیدہ بندرگاہ کے قریب دو فضائی حملے کیے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک حوثی جہازوں پر حملے نہیں روکتے بمباری جاری رہے گی‘ یہ پیغام حوثیوں اور ایران دونوں کے لیے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے ڈیل نہ کی تو اس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا مطالبہ وہ شخص کر رہا ہے جس نے 2015ء میں ایران اور عالمی برادری کے مابین طے پانے والے ایٹمی معاہدے کو سبوتاژ کر دیا تھا۔ کیا اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایران کو اگر اس عالمی ایٹمی معاہدے سے پیچھے دھکیل دیا گیا تو لا محالہ وہ ایٹمی طاقت کے حصول کی طرف جائے گا؟ قصور کس کا اور سزا کس کو دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
امریکی صدر کی اس دھمکی پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا شدید ردِ عمل سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے‘ امریکہ نے ایسا کوئی اقدام کیا تو اسے سخت جوابی دھچکا پہنچے گا۔ اس دھمکی سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک دھمکی آمیز خط بھی لکھا تھا جس میں جوہری ڈیل پر زور دیا گیا تھا۔ ایرانی قیادت نے اس خط پر بھی جارحانہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی براہِ راست ڈیل میں شامل نہیں ہو سکتا البتہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
اب مشرقِ وسطیٰ میں ہی تھوڑا سا آگے کھسکتے ہیں جہاں بربریت سرِ عام جاری ہے اور دنیا جیسے کُور چشم ہو چکی ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی حملوں میں عیدالفطر کے دن بھی کمی نہ آئی۔ فلسطین میں عیدالفطر تو منائی گئی لیکن اس حالت میں کہ فلسطینی علاقے اسرائیلی بمباری سے گونجتے رہے۔ اس بمباری کے نتیجے میں کم از کم 20 فلسطینی شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے نہتے معصوم بچوں کو بھی نہ بخشا۔ حملہ کر کے عید کے کپڑے پہن کر تیار ہو کر بیٹھے بچوں کو بھی شہید کر دیا گیا۔ اب اسرائیل نے اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے غزہ میں 40 دن کے لیے جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے‘ لیکن میرے سمیت کسی کو بھی یقین نہیں کہ اسرائیل اس ممکنہ جنگ بندی کی پاسداری کرے گا کیونکہ جنوری میں ہونے والی جنگ بندی کا کیا نتیجہ نکلا وہ سب نے دیکھا۔ یہ الگ بات کہ سب نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں یا اس سوچ کے ساتھ سر ریت میں چھپا رکھا ہے کہ اس طرح اسرائیلی بربریت کا طوفان تھم جائے گا اور انہیں کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اس طوفان کو نہ روکا گیا تو یہ محض ایران‘ یمن یا غزہ کو ہی متاثر نہیں کرے گا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بدل کر رکھ دے گا۔ سر ریت میں دینے سے یقینا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھ کر سوچنا اور آگے بڑھنا ہو گا۔ ٹرمپ کی ایران کے بارے میں پالیسی‘ یمن کے بارے میں اقدامات اور تعمیرِ نو کے لیے غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کی پالیسی کے اعلان کے بعد بھی اگر کسی کا خیال ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل نہیں ہو رہا تو یقینا اس سے بڑا خام خیال اور کوئی نہ ہو گا۔ سب کو مل بیٹھ کر سوچنا پڑے گا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اور پورے روئے ارض پر پائیدار امن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ اپنے لیے نہیں تو آنے والی نسلوں کے لیے ہی سوچ لیں۔