قومی معاملات پر صرف ملک ترجیح ہونا چاہیے، ایسے مواقع پر سیاست چمکانا پی ٹی آئی کا وطیرہ بن گیا ہے۔شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ ملک کو دہشتگردی کا بڑا چیلنج درپیش ہے، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے، دہشتگردی کی لہر دشمن ممالک کی ایماء پر شروع کی گئی۔ آج دہشتگردی کے حوالے سے اہم بریفنگ ہونے جا رہی ہے، لیکن ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا ان کیمرہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ افسوسناک ہے، اجلاس میں شریک ہو کر پی ٹی آئی اپنے سوالات کر سکتی تھی۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔ سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قومی مسائل پوری قوم کے لیے ہوتے ہیں، ہر مشکل اور برے حالات میں قومی ایشوز پر ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے، لیکن پی ٹی آئی اس نازک موڑ پر بھی ریاست کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ جب تک “اڈیالہ کے قیدی” کی اجازت نہیں ملے گی، وہ قومی معاملات میں شرکت نہیں کریں گے۔سیکیورٹی اداروں کے پاس موجود شواہد کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے، اور دہشت گردوں نے پیپلز پارٹی پر حملے کیے، لیکن پارٹی ہمیشہ کھل کر دہشتگردی کی مذمت کرتی رہی ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتی آئی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کا نشانہ ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی رہی ہے، اور پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو دہشت گردی کے خلاف کھڑی رہی ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جو جماعتیں ماضی میں طالبان کی حمایت کرتی رہی ہیں، وہی آج ان کیمرا اجلاس میں شرکت سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے معاملات پر سیاست کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ رہا ہے۔ خیبرپختونخواہ میں ان کی حکومت کے دوران اے پی ایس واقعہ پیش آیا، بنوں جیل توڑا گیا تب بھی پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔ آج بھی خیبرپختونخواہ کے جو حالات ہیں، وہاں وزیر اعلیٰ اپنے حلقے میں نہیں جا سکتا، شام کے بعد پولیس سڑکوں پر گشت نہیں کر سکتی۔ یہ ساری ناکامیاں اور نااہلی پی ٹی آئی کی اپنی حکومت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں، ملک کے تمام اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کو مل کر ان مسائل سے نمٹنا ہوگا۔ جو آگ بلوچستان میں جل رہی ہے، وہ کل کہیں پر بھی پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور مفاد کے لیے سب نے مل کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب کور کمانڈر کوئٹہ کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا تب بھی عمران خان کے ٹائگرز اور ٹرولرز نے نہایت ہی گری ہوئی مہم چلائی تھی۔ جعفر ایکسپریس سانحہ پر بھی پی ٹی آئی کے ٹرولرز نہایت ہی گھٹیا مہم چلا رہے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ مل کر چلا رہے ہیں جو ان واقعات میں براہ راست ملوث ہیں۔ اگر یہ گٹھ جوڑ دیکھا جائے تو کیا یہ نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی ہر وہ موقع گنوانے کو تیار نہیں جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے؟ جو لوگ بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ لے رہے ہیں، کیا ایسا تو نہیں کہ وہ ان کے کہنے پر اپنے ہی ملک کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں؟ اگر کوئی جماعت مسلسل پاکستان کے خلاف سازش کرتی رہے، تو اسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کسی بھی صورت میں سندھ کے پانی کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور دریائے سندھ پر کوئی کینال بننے نہیں دے گی۔ یہ نوشتہ دیوار ہے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ کینال نہیں بننے دیئے جائیں گے۔ یہ واضح پیغام پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ کی طرف سے ہے۔ سندھ اسمبلی میں تمام جماعتوں نے کینالز کے خلاف قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی ہے۔ عید کے بعد صحافیوں کو بھیجا جائے گا تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ کس حد تک کینالز پر کام ہو رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں غیر قانونی تارکین وطن کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہو۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پی ٹی آئی کے احمقوں کی جانب سے آتے ہیں۔