
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی ایم ایف کو اگلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز دی ہے۔تمباکو، رئیل اسٹیٹ اور مشروبات کے شعبوں کے لیے اگلے 3 ماہ (اپریل تا جون) کے دوران ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی تجویز دی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو اس حوالے سے آگاہ کردیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی جاری مالی سال کے دوران مؤثر ہوگی یا اسے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔بڑے شعبوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی کے ساتھ ایف بی آر نے پیشگوئی کی ہے کہ ان شعبوں میں حجم اور لین دین موجودہ ٹیکس کی شرحوں پر نمایاں کمی کا شکار ہیں، اس لیے ٹیکس وصولی کے ادارے نے قومی خزانے میں اضافی 100 ارب روپے کی وصولی کا تخمینہ لگایا ہے جو اپریل تا جون کے تین ماہ کے دوران حاصل ہوسکتے ہیں۔