
اب ہم آئی ایم ایف کے ششماہی جائزے میں اچھی پوزیشن میں ہوں گے۔وزیرخزانہ اورنگزیب
بلوچستان اسمبلی نے زرعی آمدنی پر ٹیکس کا بل منظور کرلیاہے۔واضح رہے کہ قبل ازیں پنجاب ،خیبرپختونخوا اور سندھ میں بھی زرعی آمدنی پر ٹیکس لاگو کیا جا چکا ہے۔بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگری کلچرل انکم کا مسودہ قانون منظور کرلیاہے۔مسودہ قانون کے مطابق زرعی آمدن پر انکم ٹیکس 45 فیصد تک بڑھ جائے گا۔بلوچستان اسمبلی میں پیش کیے گئے بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگری کلچرل انکم کے مسودہ قانون کی دستاویزات کے مطابق 6 لاکھ سالانہ کی زرعی آمدنی تک ہونے پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا تاہم 6 لاکھ سے 12 لاکھ تک آمدن پر 15فیصد ٹیکس نافذ ہوگا ۔ مسودہ قانون کی دستاویزات کے مطابق 12 لاکھ سے 16لاکھ روپے تک کی آمدن پر 90ہزار فکس ٹیکس اور12لاکھ کی اوپر کی مجموعی آمدن پر 20فیصد ٹیکس نافذ ہوگا۔ اسی طرح 16 لاکھ سے 32 لاکھ آمدنی پر 1 ایک لاکھ 70 ہزار فکسڈ ٹیکس جبکہ 16 لاکھ سے اوپر آمدنی پر 30 فیصد زرعی ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے چاروں صوبائی اسمبلیوں سے زرعی آمدنی پر ٹیکس کا بل منظور ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم آئی ایم ایف کے ششماہی جائزے میں اچھی پوزیشن میں ہوں گے۔