کالم

ایک سال کا کریڈٹ

(طارق امین)

صرف ریفرنس کیلیئے اہل علم کے کچھ اقوال منقول کرنے چلا ہوں! کہتے ہیں عشق وہ جو سر چڑھ کر بولے اور تعریف وہ جو آپکے ناقد بھی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ راقم کا ریکارڈ ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے ادوار میں انکا ناقد رہا ہے اور جہاں کہیں بھی انکے طرز حکومت یا طرز سیاست میں جھول چوک نظر آئی اس پر کھل کر لکھا۔ اسی طرح عمران خان کی حکومت کے زیر سایہ سائیں سرکار بزدار کے دور حکومت میں جب ڈپٹی کمشنرز کی پوسٹ کی پانچ پانچ کروڑ میں TK نیٹ ورک کے ذریعے، جسکے لیئے یہ خاکسار پاکپتن گروپ کا استعارہ استعمال کرتا تھا، بولی لگتی تو راقم اس وقت کھل کر اس پر بھی لکھتا تھا۔ میاں نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں جو 2013ء سے شروع ہوا اس میں مسلم لیگ ن کی جس پالیسی سے اس خاکسار کو بڑا اختلاف تھا وہ انکی میڈیا مینجمنٹ تھی اور خاصکر انکی ٹیم کے وہ ممبران جو جب بھی بولتے تو صاف لگتا کہ انکی ہر بات سے بْغض ٹپکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں بھی یہ بڑا مضبوط تاثر تھا کہ حکومتی امور کی بجا آوری میں وزیراعلی صاحب کے ایک بیٹے کی بہت زیادہ دخل اندازی ہے لیکن اسکے ساتھ راقم سمیت انکے بہت بڑے ناقد اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان دونوں کوریڈور سے اْن دنوں ٹرانسفر پوسٹنگ کے سلسلے میں کبھی بھی ایک روپے کے لین دین کا ذکر سْننے کو نہ ملا۔ آج جب مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کو حکومت سنبھالے ایک سال کا عرصہ بیت چکا تو حکومتی امور چلانے میں اس کا جو سکول آف تھاٹ ہے اس حوالے سے زمینی حقائق کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں مزید بہتری آئی ہے۔ راقم اس قسم کے مخصوص ریمارکس کس بنیاد پر دے رہا ہے، اس بارے وہ اپنے ذاتی مشاہدہ اور تجربہ کی بنیاد پر بات کریگا۔ ایف بی آر کے امور سے اس خاکسار کو بہت زیادہ آگاہی ہوتی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کی پوسٹنگ ایک ایسی lucrative پوسٹ ہوتی ہے جس کیلئے لوگ سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں۔ اقتدار کی راہداریوں کی خبر رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب موجودہ چیرمین ایف بی آر کی تعیناتی ہو رہی تھی تو اسلام آباد میں باقی امیدوار تو ایڑی چوٹی کا زور لگا ہی رہے تھے، ایف بی آر میں گریڈ بائیس کے دو ایسے افسران تھے جو ان تمام حدوں کو کراس کر رہے تھے جنکی سسٹم اجازت نہیں دیتا لیکن اس سٹیٹمنٹ کا ایک ایک لفظ سچ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اور طاقتور شخصیت سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے وہ کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے اور پاکستان کے مفاد میں میرٹ کی بنیاد پر ایک ایسے شخص کو پوسٹ کریں گے جو کسی کے مفاد کی رکھوالی نہیں کریگا اور جسکا ٹریک ریکارڈ بتا رہا ہے کہ وہ نہ صرف دیوانے کا خواب سچ ثابت کر رہا ہے بلکہ اسکی تعمیر میں اپنا دن رات ایک کیئے ہوئے ہے۔ اسی طرح اب پنجاب حکومت کی طرف آتے ہیں۔ یقین جانیں جس دن مریم نواز کو وزیراعلی پنجاب بنانے کا فیصلہ ہوا بطور تجزیہ نگار میرا خیال تھا کہ چونکہ شہباز شریف وزارت عظمی کے مستحق قرار پائے ہیں اس لئے حالات کو بیلنس رکھنے کیلئے مریم نواز کو وزیراعلی پنجاب بنایا جا رہا ہے لیکن دیکھتی آنکھوں نے دیکھا کہ بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کے تجزیے لکڑی کی تختی پر کچی مٹی سے لکھی تحریر ہی ثابت ہوئے اور مریم نواز نے بطور وزیراعلی وہ پیش قدمی کی کہ وہ اپنے باپ اور چچا کو بھی پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہیں۔ حکومتی امور پر انکی گرفت اور ان کی کارکردگی بلاشبہ قابل ستائش ہے اور اس بات کا اعتراف کرنا پڑیگا کہ ایک پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ ن اور خاصکر مریم نواز کے حوالے سے جو ایک مخصوص کمپئین چلائی گئی اور چلائی جا رہی تھی اسکا وہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر تریاق کر رہی ہیں۔ جیسا راقم نے اوپر بیان کیا کہ نون لیگ کے ادوار میں بغیر پیسے کی انوالمنٹ افسران کی جس ٹرانسفر پوسٹنگ کو انکا ایک کریڈٹ سمجھا جاتا تھا اسی legacy کو مریم نواز بھی carry کیئے ہوئے ہیں۔ اس ایک سال کے عرصہ میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر لیول پر شائد ہی کوئی ایک دو آرڈر نکلے ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مریم نواز کا کلیر میسج ہے کہ جس تنخواہ پر لگے ہو اسی پر کام کرو۔ ایڈمنسٹریشن سائنس کے ایک طالبعلم کے طور پر راقم یہ سمجھتا ہے کہ آئے روز کی اکھاڑ پچھاڑ ایک طرف افسران میں فرسٹریشن ،اضطراب کا سبب بنتی ہے ْاور انکی کارکردگی پر اثر ڈالتی ہے تو دوسری طرف وہ مختصر عرصہ کی تعیناتی کی وجہ سے جوابدہی کے عمل سے بھی بچ جاتے ہیں۔ شائد اسی فلسفہ کو سمجھتے ہوئے مریم نواز اور انکے چیف سیکرٹری اپنی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان کو اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ 
بلاشبہ مریم نواز نے اپنے باپ کے پچھلے دور حکومت میں وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر محلاتی سازشوں کو بھی دیکھا اور ان سے نپٹنے کے گْر بھی سیکھے لیکن اہل علم کہتے ہیں کہ آپکی کامیابیاں بھی آپکو بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ یہی اہل دانش کہتے ہیں کہ انہی کامیابیوں میں ان کمیوں کو بھی ڈھونڈو جنکا علاج ان کامیابیوں کو مزید درخشاں کر سکتا ہے۔ مریم نواز سے عرض ہے کہ وہ پنجاب کی ترقی کا جو بھی منصوبہ لاتی ہیں جس میں لیب ٹاپ کی تقسیم ،غریبوں کے مفت علاج کے منصوبے، بے سہارا بچیوں کی شادیاں ، عوام کی رفاع یا فلاح کے کام ، نوجوانوں کیلئے قرض کی سہولت کا اجراء یا نئی سڑکوں کی تعمیر ہو ، اس کا کریڈٹ انہیں اپنے ان کاموں سے ہی ملے گا۔ کہتے ہیں قافلہ جب چلتا ہے تو وہ اردگرد نہیں دیکھتا اپنی منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ فی الحال تو آپ پاکستان سے جس عشق کی بات کر رہی ہیں، آپکے کاموں میں اسکی رمک نظر بھی آ رہی ہے۔ کوشش کریں کہ آگے چل کر وہ سر چڑھ کر بولے۔

متعلقہ خبریں۔

Check Also
Close
Back to top button